بیندور 14 / جولائی (ایس او نیوز) بیندور کے قریب سنسان علاقے میں جلی ہوئی کار اور لاش کا ڈھانچہ برآمد ہونے کا معاملہ پولیس نے حل کر لیا اور قتل کی سازش رچنے اور اس پر عمل کرنے کے الزام میں ایک خاتون سمیت 4 افراد کو گرفتار کیا ہے ۔
پولیس کے بیان کے مطابق گرفتار کیے گئے ملزمین کے نام سدانندا شیریگار ، شیلپا ، ستیش آر دیواڈیگا اور نتین عرف نتیانند دیواڈیگا ہیں اور یہ سب کارکلا کے رہنے والے ہیں ۔ اور کار میں جل کر خاکستر ہونے والے شخص کا نام آنندا دیواڈیگا بتایا گیا ہے جو کہ میستری کا کام کرتا تھا ۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کار میں ایک شخص کو بٹھا کر آگ لگانے اور قتل کرنے کی سازش سدانندا شیریگار نے رچی تھی ۔ چونکہ سدانندا بہت زیادہ مالی بدعنوانیوں میں پھنسا ہوا تھا اس لئے اپنی کار میں کسی شخص کو بٹھا کر آگ لگانے کے بعد خود جل کر ہلاک ہونے کی خبر عام کرنے کی سازش بنائی گئی تھی ۔ سدانندا نے اس پر عمل پیرائی کے لئے شیلپا نامی خاتون کا ساتھ لیا ۔ اس نے اپنے شناسا آنند کو بہلا کر پھسلا کر اپنے ساتھ بلا لیا اور پھر ایک بار میں خوب شراب پلانے کے بعد اسے نیند کی گولیاں بھی کھلائی گئیں ۔ پھر بیندور پہاڑی پر سنسان علاقے میں لا کر کار کو آگ لگا دی گئی جس کی وجہ سے نشہ میں دھت آنند کار کے اندر جل کر راکھ ہوگیا ۔
پولیس نے اس معاملہ میں فورنسک ماہرین سے کار کا چیسس نمبر پتہ کر لیا اور کار مالک کی تلاش میں نکل پڑی ۔ ساستھان ٹول گیٹ کے کیمرے میں اس کار سے خاتون نکل کر ٹول فیس ادا کرنے کا منظر قید ہوا تھا ۔ اس کی مدد سے پولیس ملزمین تک پہنچ گئی اور انہیں گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جہاں ان کو مزید تفتیش کے لئے پولیس کسٹڈی میں دیا گیا ہے ۔
بیندور پولیس سرکل انسپکٹر سنتوش کائکینی کی قیادت میں پی ایس آئی پون نائیک ، گنگولی پی ایس آئی ونئے کورلاہلّی نے دیگر اہلکاروں کے ساتھ جس تیزی اور سرعت کے ساتھ اس کیس کو حل کرنے کا کام کیا ہے اس کی ستائش کی جا رہی ہے ۔